Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / میڈیکل کالج کولاشوں کی ضرورت سے آزاد کرانے والی ڈجیٹل لاش تیار

میڈیکل کالج کولاشوں کی ضرورت سے آزاد کرانے والی ڈجیٹل لاش تیار

پیرس: میڈیکل کالجوں میں تجربات اور سرجری سیکھنے کے لیے لاشوں کے عطیات کی ہمیشہ سے ہی کمی رہی ہے۔ اب اس کمی کو دور کرنے کے لیے یونیورسٹی آف ماؤنٹ پیلیئر، فرانس کے ماہرین نے تھری ڈی اسکینرز کی مدد سے ایک ’مجازی لاش‘ ورچول کیڈے ور تیار کی ہے۔
اس ڈجیٹل لاش کوچیرپھاڑ کرکے باربار دیکھا جاسکتا ہے اور نوآموز ڈاکٹرمجازی نشتر (اسکیلپل) سے جسم کی جراحی کا تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اسے بنانے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ پوری دنیا میں جراحی کے لیے لاشوں کے عطیات کی شدید کمی ہے اوریوں نئے ڈاکٹر سرجری اور تجربات سے عاری ہیں اور بعض میڈیکل کالجوں میں ایک بھی لاش موجود نہیں اوردنیا کے بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی وجہ سے ان کی چیرپھاڑکی اجازت نہیں دی جاتی۔
اس نظام کو یونیورسٹی آف ماؤنٹ پیلیئر کے ڈاکٹر گیلام کیپٹیئر اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے گردن اور پیڑو (پیلوس) کے مقامات پرمجازی سرجری کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم بے حد پیچیدہ ہے اور پورے جسم کا ڈائی سیکشن سسٹم بنانے میں کئی مشکلات حائل ہے۔
اس کی تیاری میں ڈاکٹر گیلام اور ان کے معاونین نے اصل لاش کی جراحی کی ہے اور اس کی پرت درپرت اتار کر اسے جدید اسکینر سے کمپیوٹرمیں محفوظ کیا ہے۔ اب مجازی نشترکے ساتھ اسے محسوس کرتے ہوئے سرجری کی جاسکتی ہے تاہم یہ ڈاکٹروں اور طالبعلموں کو سو فیصد درست معلومات فراہم کرتی ہیں اوروہ اس پر خاطر خواہ تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں پورے جسم کے حصوں کا تھری ڈی ڈیٹا بیس بنایا جائے گا اور کسی آپریشن سے قبل بھی اس پر پریکٹس کی جاسکے گی۔

About Admin

Check Also

کھانے پینے کی چیزیں گھر پہنچانے والے ’ڈیلیوری روبوٹ‘ نے دھوم مچا دی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ بیجنگ میں ہوں اور کھانے پینے کی چیزیں آن لائن آرڈر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: