Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / ماہانہ کروڑوں گیلن پانی کا زیاں روکنے والا روبوٹ

ماہانہ کروڑوں گیلن پانی کا زیاں روکنے والا روبوٹ

بوسٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) اس پیاسی دنیا میں پانی تمام لوگوں کی اولین ضرورت ہے لیکن اس کی فراہمی ایک چیلنج بھی ہے کیونکہ بوسیدہ پائپ لائنوں سے کم ازکم کھربوں گیلن پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اب اس زیاں کو روکنے کےلیے ایک انتہائی سادہ اور مؤثر روبوٹ بنالیا گیا ہے۔
یہ روبوٹ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے چینی طالب علم ’یو وُو‘ نے تیار کیا ہے جو آب رسانی کے پائپوں میں تیرتا رہتا ہے اور اپنے مخصوص ’ہاتھوں‘ سے رِستے ہوئے پائپوں میں پیدا ہونے والی ’قوتِ انجذاب‘ (سکشن فورس) کو محسوس کرکے اس کی کیفیت اور مقام کی فوری خبر دیتا ہے۔
روبوٹ کا پہلا ماڈل اس سال ’لائٹ ہاؤس‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا جس کے بعد عالمی جریدے فوربز نے چینی نوجوان یووو کو 2018 کے 30 سال سے کم عمر کے 30 ایسے ماہرین کی فہرست میں شامل کیا ہے جو دنیا کو بدلنے کے خواہاں ہیں۔ اس کے بعد یووُو نے روبوٹ سازی کی ایک باقاعدہ کمپنی بھی بنائی جسے واچ ٹاور روبوٹکس کا نام دیا گیا۔دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کی روزانہ 20 فیصد مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل لیکیج بتانے والے کئی روبوٹ اور نظام بنائے گئے لیکن ان کی اکثریت پائپ میں پریشر کی کمی اور وہاں سے خارج ہونے والی آوازوں کو نوٹ کرتی ہے لیکن ہر شہر میں صوتی سینسر والے روبوٹ کارآمد نہیں ہوتے کیونکہ وہاں بہت شور ہوتا ہے جب کہ یہ روبوٹ شور والے شہروں اور دیہاتوں میں یکساں طور پر کام کرتا ہے۔
صرف امریکا میں ہی ہرسال ڈھائی لاکھ مقامات سے پانی رِستا ہے جس میں دو ٹریلین گیلن پانی کسی استعمال کے بغیر ضائع ہوجاتا ہے۔ روبوٹ پائپ کے اندر سفر کرتے ہوئے اطراف کا سہ جہتی (تھری ڈی) نقشہ بناتا ہے جس سے پانی کے رساؤ (واٹر لیکیج) والے مقام کی شناخت اور اس کی مرمت بہت آسان ہوجاتی ہے۔
اب تک یہ روبوٹ امریکا، برطانیہ اور سعودی عرب میں آزمایا جاچکا ہے اور اس کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

About Admin

Check Also

چمگادڑ کی طرح آواز سے ’’دیکھنے‘‘ والا ’’روبیٹ‘‘

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) انجینئروں نے عین چمگادڑ کی طرز پر ایک روبوٹ بنایا ہے جو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: