Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / صحت / مکھی کے ڈنک سے ایکزیما کے علاج کی امید روشن

مکھی کے ڈنک سے ایکزیما کے علاج کی امید روشن

سیئول(مانیٹرنگ ڈیسک) وہ دن دور نہیں جب ایکزیما کے مریض مکھی کے ڈنک میں موجود ایک خاص پروٹین سے اپنے اس مرض سے افاقہ حاصل کرسکیں گے۔
شہد کی مکھی کے ڈنک میں موجود زہر میں ایک طرح کا پروٹین ’میلی ٹِن‘ پایا جاتا ہے جس میں جسم کے امنیاتی نظام کی اس کیفیت کو زیر کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہوتی ہے جو ایکزیما کی وجہ بنتا ہے۔ اس سے کروڑوں افراد کو فائدہ ہوگا کیونکہ دنیا کی تین فیصد آبادی جلد کی جس بیماری کی گرفت میں ہے اسے ایکزیما ہی کہا جاتا ہے۔
آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے نہ صرف میلی ٹِن دریافت کرکے ایکزیما کا ممکنہ علاج معلوم کیا ہے بلکہ وہ اس کی افادیت کی پوری وجہ بھی جان گئے ہیں۔ ایکزیما کا طبی نام ’ایٹوپک ڈرماٹائٹس‘ ہے اور یہ فلیگرین نامی پروٹین کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔
جلد میں جب فلیگرین خاص مقدار سے کم ہوجائے تو جلد کے ذرات جھڑ کر گرنے کی بجائے اوپر تلے جمع ہونا شروع جاتے ہیں۔ ایکزیما شروع ہونے سے جلد میں انفیکشنز کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ کہ اس پر جلد دشمن خردبینی بیکٹیریا جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس کے بعد سوزش، کھجلی اور بے قراری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
شہد کی مکھی میں موجود میلی ٹِن پروٹین پر پہلے بھی تحقیقات ہوئی ہیں اور اس کے بہت سے فوائد دریافت ہوئے ہیں جن میں درد کی شدت میں کمی سے لے کر کینسر کا علاج تک شامل ہے۔ چونکہ مکھیاں اس زہر سے جراثیم بھگاتی ہیں تو اسی بنا پر دوا سازی میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جب اس پروٹین کوایکزیما جیسی بیماری میں مبتلا چوہوں پر آزمایا گیا تو اس کے مثبت اثرات برآمد ہوئے۔ دوسری جانب انسانی جلد کے خلیات پر بھی میلی ٹِن آزمایا گیا تو دونوں طریقوں میں اس سے جلد کی سوزش اور کھجلی میں کمی ہوئی جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ پروٹین بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

About Admin

Check Also

آنتوں کے جراثیم بجلی بھی بناتے ہیں!

کیلیفورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ آنتوں اور نظامِ ہاضمہ میں پائے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: