Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / اہم ترین / سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت میں وقفہ

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت میں وقفہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کا آغاز ہوگیا، جس کے لیے نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔

احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔

آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو خواجہ حارث کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور آگاہ کیا کہ نواز شریف کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروف ہیں، جہاں ڈویژن بنچ میں درخواست آج سماعت کے لیے مقرر ہے۔

جج محمد ارشد ملک نے استفسار کیا کہ ڈویژن بنچ میں سماعت کتنے بجے شروع ہوتی ہے؟

معاون وکیل نے جواب دیا کہ ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ ساڑھے 11 بجے سماعت شروع کرتا ہے۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے معاون وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر ہم ساڑھے 12 بجے تک سماعت میں وقفہ کر دیتے ہیں، آپ اس دوران خواجہ حارث سے پوچھ لیں کہ کیا وہ اس سے پہلے آسکتے ہیں؟

جس کے بعد سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔

مذکورہ کیس کی 30 اگست کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح جاری رکھی تھی۔

تاہم واجد ضیاء نے شماریات ، بزنس اور بینکنگ کی تکنیکی ٹرمز والے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا تھا۔

واجد ضیاء نے جرح کے دوران بتایا کہ نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نےآڈٹ بیورو رپورٹ جے آئی ٹی میں جمع کرائی تھی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء شریک ملزمان کی جمع کرائی گئی دستاویزات بھی ہمارے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔

ایک موقع پر جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ کر خواجہ حارث نے سوال کرنا چاہا تو واجد ضیاء نے کہا کہ اس میں ٹائپنگ کی غلطی ہے، لفظ or کی جگہ غلطی سے لفظ of لکھا گیا۔

عدالت نے ایک موقع پر واجد ضیاء کے ریکارڈ کیے گئے بیان میں نیب پراسیکیوٹر کے کہنے پر تبدیلی کرائی تو خواجہ حارث برہم ہوگئے اور کہا کہ عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی اجازت نہیں دوں گا، جس کے بعد خواجہ حارث احتجاجاً عدالت سے چلے بھی گئے۔

بعد میں ان کی طرف سے معاون وکلاء نے بیان میں تبدیلی کو چیلنج کرنے کی درخواست دائر کر دی۔

دوران سماعت نیب کی پراسیکیوشن ٹیم اور خواجہ حارث کے معاون وکلاء کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔
اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی جاچکی ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہیں۔

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے، جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا تھا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

About Admin

Check Also

بھارتی آرمی چیف بھارتیہ جنتا پارٹی کے آلہ کار نہ بنیں، فوادچوہدری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: