Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / پلگو! بچوں کو ٹیبلٹ کی لت سے نجات دینے والا ٹیبلٹ کھلونا

پلگو! بچوں کو ٹیبلٹ کی لت سے نجات دینے والا ٹیبلٹ کھلونا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) تقریباً تمام والدین اپنے بچوں میں ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون سے گھنٹوں کھیلتے رہنے کی عادت سے شدید پریشان ہیں۔ اب بچوں کی اس خراب لت کو دور کرنے کے لیے ایک انٹرایکٹو ہارڈویئر گیم بنایا گیا ہے جسے ’پلگو‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ماہرین خبردار کرچکے ہیں کہ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ سے خارج ہونے والی بلیو لائٹ آنکھوں کے ان خلیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے جو روشنی جذب کرنے اور دیکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر بچوں کی نازک بینائی ان آلات سے شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
پلے شائفو نامی کمپنی نے پلگو گیم تیار کیا ہے جو ’’لیگو‘‘ کی طرح چند ٹکڑوں، ایک پلیٹ فارم اور ٹیبلٹ پر مشتمل ہے جسے تعلیمی اور سیکھنے سکھانے کے عمل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ پلگو بچوں کو براہِ راست ٹیبلٹ کو دیکھنے سے بھی روکتا ہے۔
اس گیم کے لیے بہت سے کنٹرولرز بھی بنائے گئے ہیں۔ جب بچے ٹیبلٹ کے سامنے کھلونے رکھتے ہیں تو وہ اسکرین پر انٹریکٹو انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔ بچے اسکرین کو دیکھتے ہوئے سادہ تجربات، آلات اور کھلونے تیار کرسکتے ہیں۔ پلگو پانچ سے لے کر گیارہ برس تک کے بچوں کےلیے تیار کیا گیا ہے۔
اس میں ایک گیم پلگو اسٹیر ہے جس میں بچے کار کے پلاسٹک ہینڈل استعمال کرتے ہوئے اسکرین پر گاڑی دوڑاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیل کھیل میں ریاضی اور جیومیٹری کے بہت سے تجربات بھی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زبان سیکھنے اور نئے الفاظ جاننے کےلیے بھی کئی معاون گیم بنائے گئے ہیں۔
دوسری جانب یہ گیم آگمینٹڈ ریئلٹی میں بھی کھیلنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس میں دماغی کھیل بھی موجود ہیں جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں۔
اگلے سال مارچ میں پلگو فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا اور اس کی قیمت 35 سے 99 ڈالر کے درمیان ہوگی جو مختلف گیمز کے حوالے سے ہوگی۔

About Admin

Check Also

روزانہ ایک ٹن کچرا سمیٹ کر ایندھن بنانے والی ماحول دوست کشتی

نیو ہیمپشائر(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے شہر ساؤتھ ایمپٹن کی ایک کمپنی نے سمندر صاف کرنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: