Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / دماغ سے کنٹرول ہونے والا تیسرا بازو

دماغ سے کنٹرول ہونے والا تیسرا بازو

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک ابتدائی تجربے میں آٹھ رضاکاروں نے اپنے دماغ سے مشینی بازو کنٹرول کرنے کا کامیاب مظاہرہ کرتے ہوئے ایک وقت میں دو مختلف امور انجام دیئے ہیں۔
اس ٹٰیکنالوجی کو مصروف انسانوں کےلیے تیار کیا ہے جو ایک وقت میں کئی کام کرنا چاہتے ہیں، یا پھر انہیں وزن وغیرہ اٹھانے کےلیے ایک اور دستِ تعاون درکار ہوتا ہے لیکن یہ بازو اب مشینی ہوگا جو دماغی اشاروں پر کام کرے گا۔
تجربے میں رضاکاروں کے دماغ پر سوچ پڑھنے والے برقیرے (الیکٹروڈز) لگائے گئے اور ان کے پاس ہی تیسرا مشینی بازو رکھ کر اس سے مختلف کام لیے گئے۔ رضاکاروں کے سر پر دو الیکٹروڈز لگائے گئے تھے جو دماغی احکامات اور سرگرمی روبوٹ کو سگنل کی صورت میں بھیج رہے تھے۔ پہلے مرحلے میں ایک بوتل تھامنے، بھینچنے اور اسے چھوڑنے کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔
جب ماہرین نے روبوٹ بازو 15 رضاکاروں کے دماغ سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے صرف آٹھ ہی کامیاب ہوسکے۔ ہر کارکن سے کہا گیا کہ وہ ایک جانب تو اپنے اصلی دونوں بازوؤں سے ٹرے میں گیند کو حرکت دیں اور اسی دوران دماغ سے مشینی بازو کنٹرول کرتے ہوئے ایک بوتل کو پکڑٰیں اورپھر اسے چھوڑیں۔
ان میں سے آٹھ افراد ایک ہی وقت میں بال گھمانے اور دماغی اشاروں سے بوتل تھامنے اور چھوڑنے کا کام کرتے رہے لیکن بقیہ سات افراد اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور تھوڑے وقفے کےلیے ہی ایک وقت میں دو کام کرتے رہے۔
’وجہ یہ ہے کہ دونوں گروہ کسی بھی طور پر بازو گرفت کرنے میں ناکام نہیں ہوئے بلکہ ایک وقت میں دو کام کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے پر ناکام ہوئے،‘ اس تحقیق میں شامل شوئشی نیشیو نے کہا جو ٹوکیو میں ایڈوانسڈ ٹیلی کمیونی کیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نےکہا کہ جو افراد ایک وقت میں کئی کام کرتے ہیں وہ ایک وقت میں تینوں ہاتھوں سے کام لینے میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔
اسے بنانے کی وجہ یہ ہے کہ کارخانوں میں کام کرنے والوں کو وزن اٹھانے کےلیے ایک اور مددگار بازو فراہم کیا جائے تاکہ وہ اچھی طرح اپنے امور انجام دے سکیں۔ اس کے علاوہ بازو کو استعمال کرتے ہوئے مختلف افراد ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کی مشق کو بہتر بناکر اپنے ذہن کو ملٹی ٹاسکنگ (کثیرامور) کا عادی بھی بناسکتے ہیں۔
روبوٹک بازو کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اسے درست انداز میں کنٹرول کرنے کےلیے عین وہی توجہ اور مشق درکار ہوگی جو کسی مراقبے کےلیے ضروری ہوتی ہے۔ تاہم دیگر ماہرین نے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔

About Admin

Check Also

سمندری پلاسٹک، کچھووں کے 40 فیصد بچوں کو ہلاک کررہا ہے

کوئنز لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سمندروں اور ساحل پر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: