Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / بین الاقوامی / قبرصی ترک باشندوں کی حمایت کو جاری رکھیں گے‘ترکی

قبرصی ترک باشندوں کی حمایت کو جاری رکھیں گے‘ترکی

انقرہ (فارن ڈیسک) ترک صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ ترکی قبرصی ترک باشندوں کی حمایت کو جاری رکھے گا‘مسئلہ قبرص سے متعلق جنوبی قبرصی انتظامیہ کو اپنی پالیسیوں سے باز آنے کی ضرورت ہے‘ان مسائل کے حل نہ ہونے کی اصل وجہ قبرصی یونانی انتظامیہ کے قبرصی ترکوں پر حاکمیت قائم کرنے کی پالیسی ہے‘ترکی ضامن ملک ہونے کے ناتے اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض کا ادا کرتا رہے گا۔ ہفتہ کو ان خیالات کا اظہار ترجمان ترک صدر ابراہیم قالن نے قبرص کی پ±ر امن کاروائی کی 44 ویں سالگرہ پر دیے جانے والے اپنے پیغام میں شہدا ءکیلئے مغفرت اور ان کے ورثا‘غازیوں کیلئے نیک نیتی کا اظہار کرنے کےساتھ ساتھ قبرصی ترک باشندوں کی نسل کشی روکنے کیلئے ترک مسلح افواج کے اقدامات پر ترک مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ابراہیم قالن نے کہا کہ قبرصی ترک جمہوریہ جو ہمیشہ مسئلہ قبرص کو حل کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے‘ترکی اس کی ہمیشہ حمایت کو جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ قبرص کو حل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی جنوبی قبرصی انتظامیہ کو اپنی اس پالیسی سے باز آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی مسئلہ قبرص کے منصفانہ اور پ±ر امن حل کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا۔انہوں نے کہ ترکی صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں اب تک حل نہ کئے جانےوالے مسئلہ قبرص کو حل کرنے کیلئے اور اس سلسلے میں ممدو معان ہونے کیلئے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اسی طرح قبرصی ترک باشندوں نے بھی سن 2004 میں اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کروائے جانے والے ریفرنڈم میں اقوام متحدہ کی تجاویز کی حمایت میں ووٹ دیتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے میں نیک نیتی ہونے کا بھی اظہار کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل نہ کیے جانے کی اصلی وجہ قبرصی یونانی انتظامیہ کی جانب سے قبرصی ترکوں پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کی پالیسی کو اپنائے رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی ضامن ملک ہونے کے ناتے اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض کا ادا کرتا رہے گا۔

About Admin

Check Also

شام: اسلحہ ڈپو میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 67 ہوگئی

ادلب(فارن ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں یک اسلحہ ڈپو میں ہونے والے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: