Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / صحت / ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے عمررسیدہ خواتین میں فریکچر کا اضافہ

ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے عمررسیدہ خواتین میں فریکچر کا اضافہ

واشنگٹن: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عمررسیدہ خواتین میں ڈپریشن اور تناؤ کی کیفیات سے ان میں ہڈیوں کے فریکچر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بطورِ خاص یہ خطرہ ان خواتین میں بہت زیادہ ہوتا ہے جو سن یاس (مینوپاز) کی وجہ سے ماں بننے کے قابل نہیں رہتیں۔ عمر کے اس حصے میں ذہنی تناؤ کی کیفیت ان خواتین کی ہڈیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ بڑھاتی ہے جس سے زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن براہِ راست گٹھیا (اوسٹیوپوروسس) کا خطرہ بڑھاتے ہیں اور یوں ان میں فریکچر کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس کا انکشاف نارتھ امریکن مینوپاز سوسائٹی (این اے ایم ایس) کے ایک تحقیقی مجلے میں کیا گیا ہے۔ عمررسیدہ خواتین میں ہڈیوں کے امراض عام پائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں بزرگ خواتین میں ہڈیوں کی بوسیدگی اور ٹوٹنے کے خدشات کا درست اندازہ لگانا بے حد ضروری ہے۔
اس سے قبل تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ذہنی تناؤ کی شکار بزرگ خواتین میں گٹھیا (جوڑوں کے مرض) کی شرح دوگنی ہوسکتی ہے۔ لیکن اب نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈپریشن کے ساتھ ساتھ سن یاس (ماہواری کی بندش) کی شکار خواتین میں ہڈیاں کس طرح کمزور ہوجاتی ہیں اور ان میں معدنیات کس طرح تیزی سے گھل کر ضائع ہوتی رہتی ہیں۔ ہڈیوں کی معدنیات میں کمی سے فریکچر، کمر کی تکلیف اور کولہے کی ہڈی کے گولے کے متاثر ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
سروے میں 192 ایسی عمر رسیدہ خواتین کو شامل کیا گیا جو سن یاس سے گزر رہی تھیں اور انہیں مختلف قسم کی پریشانی یا ڈپریشن لاحق تھا۔ لیکن جن خواتین میں ڈپریشن زیادہ تھا، ان کی ہڈیوں میں فریکچر کا خدشہ بہت زیادہ دیکھا گیا تاہم ان خواتین میں گٹھیا کی کیفیت پہلے سے موجود تھی۔
مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسی عمررسیدہ خواتین کی ہڈیوں کےلیے ڈپریشن انتہائی مضر ہے جو پہلے ہی ہڈیوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوں کیونکہ اس صورت میں ذہنی تناؤ سے خاص کیمیکلز خارج ہوکر ہڈیوں کو مزید کمزور کرتے ہیں۔

About Admin

Check Also

کافی سے گردوں کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے، تحقیق

لزبن، پرتگال(مانیٹرنگ ڈیسک) کافی پر کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گردوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: