Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / دلچسپ و عجیب / فٹبال گراؤنڈ میں داخلے کی پابندی؛ مداح میچ دیکھنے کیلئے کرین لے آیا

فٹبال گراؤنڈ میں داخلے کی پابندی؛ مداح میچ دیکھنے کیلئے کرین لے آیا

استبول: ترکی میں ایک فٹ بال کلب کے مداح پر ایک سال تک فٹ بال گراؤنڈ میں داخلے پر پابندی سنائی گئی تو انہوں نے اس کا ایک انوکھا حل یہ نکالا کہ کرائے کی کرین پر بیٹھ کر گراأؤنڈ کے باہر سے پورا میچ دیکھ کر نہ صرف دنیا کو حیران کردیا بلکہ ذرائع ابلاغ نے بھی انہیں بھرپور کوریج دی۔
37 سالہ علی دمیر کایا عرف ’امیگو علی‘ ایک فٹبال کلب ’ڈینزلسپر‘ کے پرجوش مداح ہیں۔ 2015 میں فٹ بال میچ کے دوران ان کے رویّے کو دیکھتے ہوئے ان پر مقدمہ چلا اور 2017 میں ان پر ایک سال کےلیے فٹ بال میدان میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی اور خصوصاً اپنی پسندیدہ ٹیم ڈینزلسپر کے کھیل کا نظارہ بھی ان کےلیے بند کردیا گیا۔
لیکن دھن کے پکے علی نے سوچا کہ میدان میں داخلے پر پابندی کے باوجود وہ باہر سے یہ میچ دیکھ کر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔ اس کےلیے انہوں نے چند سو ڈالر خرچ کیے اور بلڈنگ بنانے میں استعمال ہونے والی ایک اونچی کرین لے آئے جو انہوں نے گراؤنڈ کے باہر ایک مناسب جگہ کھڑی کروا دی اور اس پر بیٹھ کر قدرے بلندی سے یہ میچ دیکھا اور اپنی ٹیم کے لیے سبز و سیاہ پرچم لہرا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس کے بعد میدان میں ایک عجیب صورتحال پیدا ہوگئی کہ لوگ کھیل کے ساتھ ساتھ گردن گھما کر خود علی کو بھی دیکھتے رہے۔ کچھ دیر بعد وہاں پولیس بھی آگئی اور کرین آپریٹر سے کہا کہ وہ علی کو نیچے اتارے تاہم اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آیا ان پر جرمانہ کیا گیا ہے یا انہیں ایسے ہی چھوڑدیا گیا۔ تاہم علی نے ثابت کردیا کہ وہ اپنی ذہانت سے فٹبال دیکھنے کی پابندی کا بہت اہم حل نکال سکتے ہیں۔علی دمیرکایا نے اس سال فروری میں بھی ایک کرین کی مدد سے میچ دیکھا تھا جہاں عوام کی بڑی تعداد ان کی جانب متوجہ ہوئی اور پولیس نے انہیں نیچے اتارا تھا۔ اب علی نے کہا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں گرم ہوا کے غبارے یا پیراگلائیڈر کے ذریعے میچ دیکھنے کا سوچ رہے ہیں۔

About Admin

Check Also

امریکا میں ’خونی فیشل‘ کرنے والا بیوٹی پارلر بند

میکسیکو(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں بیماریوں اور انفیکشن کے خطرے کے تحت ایک بیوٹی پارلر بند …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: