Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / بین الاقوامی / میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے 55 گاؤں مسمار کیے جانے کا انشکاف

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے 55 گاؤں مسمار کیے جانے کا انشکاف

برما: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر سے اب تک میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے 55 دیہات صفحہ ہستی سے ہی مٹادیئے ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے سیٹلائٹس کی جانب سے لی گئی تصاویر کی روشنی میں میانمار حکومت پر الزام لگایا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے راکھین کے شمالی حصے میں روہنگیا مسلمانوں کے دیہاتوں کو بلڈوزروں کی مدد سے مسمار کیا گیا ہے، جس کا مقصد میانمار فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے شواہد ختم کرنا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ ایشیا ریجن کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ مسمار کیے گئے دیہات روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری بربریت کا واضح ثبوت ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کی جغرافیائی تاریخ کا تحفظ کیا جانا چاہیے تاکہ اقوامِ متحدہ غیر جانبدار تحقیقات کرکے ذمہ داروں کی شناخت کر سکے۔
دوسری جانب میانمار کی وزیر برائے سماجی بہبود نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے دیہاتوں کو مسمار کرنے کا مقصد ان کی تعمیر نو ہے۔
واضح رہے کہ میانمار کی حکومت اور فوج بنگلا دیش سے ملحقہ سرحدی علاقے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور گزشتہ سال اگست سے اب تک ہزاروں افراد کو قتل اور خواتین کے بے حرمتی کی جاچکی ہے۔ میانمار میں جاری ریاستی ظلم سے تنگ 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلا دیش میں کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔

About Admin

Check Also

مزاحمتی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے تحریک دب نہیں سکتی ، میرواعظ

سرینگر(فارن ڈیسک) حریت کانفرنس”ع“ گروپ کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی عمر فاروق نے حکمرانوں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: