Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / اب اسمارٹ فون کو مائیکرواسکوپ میں بدلنا بہت آسان

اب اسمارٹ فون کو مائیکرواسکوپ میں بدلنا بہت آسان

پرتھ: اگرچہ بعض ایپس سے اسمارٹ فون بہت چھوٹی اور باریک اشیا کی تفصیلی تصاویر لے سکتے ہیں لیکن انہیں خردبینی طاقت دینے کےلیے خاص لینس کی ضرورت ہوتی ہے جو اب ایک تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ سادہ سے آلے کے ذریعے ممکن ہوچکی ہے۔
آسٹریلیا میں واقع اے آر سی سینٹر آف ایکسیلینس فار نینواسکیل بایوفوٹونکس (سی این بی پی) سے وابستہ ماہرین نے ایک تھری ڈی پرنٹر سے ایک چھوٹا آلہ بنایا ہے جو آسانی سے اسمارٹ فون سے منسلک ہوکر اسے ایک خردبین میں تبدیل کردیتا ہے۔
یہ آلہ اتنا مؤثر ہے کہ آپ ایک ملی میٹر کے بھی دو سوویں حصے تک کی بہترین تصویر لے سکتے ہیں جن میں خون اور پودے کے خلیات، ان کے نیوکلیئس، چھوٹے جانور اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ ان کی یہ ایجاد پوری دنیا میں استعمال ہوسکے اور اس کی تھری ڈی پرنٹنگ فائل جلد ہی بلامعاوضہ اپ لوڈ کردی جائیں گی جنہیں کوئی بھی استعمال کرکے اپنے اسمارٹ فون کو ایک بہترین خردبین میں تبدیل کرسکے گا۔
اس سے غریب اور دور افتادہ علاقے کے وہ لوگ بھی استفادہ کرسکیں گے جہاں مہنگی خردبین نہیں ہوتیں اور ساتھ ہی اس آلے کو بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ خردبین بہت آسانی سے ہر اسمارٹ فون کا حصہ بن سکتی ہے۔
ماہرین نے اسے بہت ذہانت سے تیار کیا ہے ۔ یہ سادہ آلہ اسمارٹ فون کی فلیش روشنی استعمال کرتے ہوئے اندر رکھے خردبینی نمونے کو روشن کرتا ہے۔ اندر تک روشنی پہنچانے کےلیے اس میں باریک سرنگ نما راستے بنائے گئے ہیں جہاں سے اسمارٹ فون کی روشنی گزرتی ہے اور وہ شے اچھی طرح روشن ہوجاتی ہے جس کی تصویر لی جاسکتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ مائیکرواسکوپ کو بار بار کھولا، ہٹایا اور دوسرے فون پر لگایا جاسکتا ہے۔ اسے بنانے کےلیے تھری ڈی پرنٹنگ کی بنیادی معلومات درکار ہوتی ہیں اور ایک سادہ تھری ڈی پرنٹر اسے تیارکرسکتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس سے دیکھے جانے والے نمونے کو یا تو مکمل روشن رکھا جاسکتا ہے، یا پھر بصورتِ دیگر پس منظر کو روشنی سے پاک رکھتے ہوئے اندھیرے میں نظر آنے والی خردبینی اشیا بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔
اس سے پانی کا معیار، خون کے نمونے، ماحولیاتی تحقیق اور بیماریوں کے جراثیم بھی دیکھنا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ سیل کلچر اور زُو پلانکٹن (پانی میں رہنے والے خردبینی جانور) بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں رہتے۔

About Admin

Check Also

روزانہ ایک ٹن کچرا سمیٹ کر ایندھن بنانے والی ماحول دوست کشتی

نیو ہیمپشائر(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے شہر ساؤتھ ایمپٹن کی ایک کمپنی نے سمندر صاف کرنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: