Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / صحت / انگور کھائیے، ڈپریشن سے نجات پائیے

انگور کھائیے، ڈپریشن سے نجات پائیے

نیویارک سٹی: سائنسدانوں کے مطابق انگوروں میں پایا جانے والا ایک مرکب ڈپریشن کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ کیمیائی مرکب ایک جانب تو ذہنی تناؤ کو برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ دوسری جانب ڈپریشن لاحق ہونے سے دماغی تبدیلیوں کو نارمل کرسکتا ہے۔
اگر کئی اقسام کے انگور اور ان کے بیجوں میں پائے جانے والے اجزا کو باہم ملا کر استعمال کیا جائے تو اس سے ذہنی تناؤ والے ڈپریشن میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈپریشن اور دماغی تناؤ میں استعمال ہونے والی 50 فیصد ادویہ بہت مؤثر ثابت نہیں ہوتیں اور ان کا استعمال ترک کرتے ہی مریض دوبارہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔
نیویارک میں واقع ماؤنٹ سینائی یونیورسٹی میں نیورولوجی کے ماہر گیولیو ماریا پیسی نیٹی اور ان کے ساتھیوں نے ڈپریشن کے علاج کے ایک متبادل طریقے پر کام کرتے ہوئے انگوروں سے اخذ شدہ بعض مرکبات کو استعمال کیا۔ اس سے قبل انگوروں میں موجود ’’پولی فینولز‘‘ نامی مادّے ڈپریشن میں مفید پائے گئے تھے لیکن ان کے دماغ پر اثرات کسی کو معلوم نہ تھے۔
اس ٹیم نے انگوروں سے تین مختلف پولی فینولز علیحدہ کیے اور انہیں ڈپریشن کے شکار چوہوں کو کھلا کر ان تحقیقات کے نتائج ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع کروائی ہیں۔
مختلف انگوروں سے اخذ شدہ اس شے کو ’بایو ایکٹیوڈائٹری پولی فینول پریپریشن‘ (بی ڈی پی پی) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بی ڈی پی پی کو میٹابولائزیشن کے عمل سے گزار کر دو نئے فائٹو کیمیکلز بھی بنائے گئے اور انہیں آزمایا گیا ہے۔
پھر ان اشیا کو شدید ڈپریشن میں مبتلا چوہوں پر آزمایا گیا تو چوہے ڈپریشن کو اچھی طرح جھیلنے کے قابل ہوئے اور وہ تیزی سے بہتر ہونے لگے۔ اس کے علاوہ ان کے بدن میں سوزش کم ہوگئی اور دماغی خلیات کے درمیان بہتر رابطہ ہوگیا۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انگوروں میں ڈپریشن کا بہت مؤثرعلاج موجود ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈپریشن کے دیگر طریقہ علاج بھی ہیں جو بہت مؤثرثابت ہوسکتے ہیں۔

About Admin

Check Also

کافی سے گردوں کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے، تحقیق

لزبن، پرتگال(مانیٹرنگ ڈیسک) کافی پر کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گردوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: