Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / صحت / سیزنل انفلوئنزا آخر ہے کیا؟

سیزنل انفلوئنزا آخر ہے کیا؟

ان دنوں پاکستان میں سیزنل انفلوئنزا ایک وبائی صورت اختیار کیے ہوئے ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے قارئین کے لیے ایک تحریر پیش کی جارہی ہے جس سے معاشرے کا ہر طبقہ استفادہ کرتے ہوئے اس مرض سے بچ سکتا ہے۔
سیزنل انفلوئنزا ایک متعدی بیماری ہے جس کا موجب ایک وائرس ہے جو کہ بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوجاتا ہے۔سیزنل انفلوئنزا کے جراثیم پوری دنیا میں گردش کر رہے ہیں اور کسی بھی جنس، عمر اور علاقے کو متاثر کرسکتے ہیں۔ موسمی فلو ایک بین الاقوامی مرض کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے کرہ ارض کے شمالی علاقوں میں یہ مرض موسمِ سرما میں پھیلتا ہے اور کرہ ارض کے جنوبی حصوں میں موسم گرما میں پھیلتا ہے۔
اس بیماری کی تاریخ بڑی پرانی ہے پہلی بار یہ بیماری وسیع پیمانے پر سن 1580ء میں سامنے آئی۔ موجودہ جدید انسانی تاریخ میں انفلوئنزا کے 3 بڑے عالمی وبائی چکر ریکارڈ میں آچکے ہیں جن میں پہلی وبائی صورت حال 1908ء سے 1919ء تک ’’اسپینش فلو‘‘ کے طور پر سامنے آئی۔ دوسرا پھیلاؤ 1957ء سے 1958ء ’’ایشین فلو‘‘کے طور پر سامنے آیا اور تیسرا پھیلاؤ 1968ء سے 1969ء جاری رہا جسے ’’ہانگ کانگ فلو‘‘کا نام دیا گیا۔
جیسا کے پہلے بتایا گیا ہے کہ کرۂ ارض کے وہ علاقے جہاں موسم بہت سرد یا بہت ٹھنڈا رہتا ہے، یہ بیماری موسم سرما میں پھیلتی ہے اور وہ علاقہ جات جہاں پر موسم متعدل رہتا ہے، یہ بیماری تقریباً سارا سال پھیل سکتی ہے۔
موسمی فلو (سیزنل انفلو ئنزا ) صرف انسانی صحت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ کسی بھی معاشرے میں معاشی و اقتصادی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والے افرا د یعنی ورک فورس اور محکمہ صحت کے اوپر بھی ا ضافی بوجھ ڈالتا ہے۔
بنیادی طور پر چار قسم کے انفلوئنزا وائرس دریافت ہوچکے ہیں جو کہ ٹائپ اے، بی، سی اور ڈی ہیں جن میں ٹائپ A اور B زیادہ بیماری پھیلانے والے جراثیم ہیں۔ علاوہ ازیں ٹائپ A کے جراثیم کی مزید گروہ بندی موجود ہے۔ ٹائپ B کی مزید کوئی سب ٹائپ نہیں ہے۔ ٹائپ C معمولی بیماری پیدا کرتی ہے اور ٹائپ D صر ف جانوروں کو متاثر کرتی ہے۔
انفلوئنزا وائرس کی ٹائپ اے 1933ء میں دریافت ہوئی، ٹائپ B کو 1940ء میں دریافت کیا گیا جبکہ انفلوئنزا کی ویکسین پہلی بار 1940ء کے اوائل میں بنائی گئی لیکن یہ ویکسین زیادہ موثر نہ تھی۔
علامات:

سیزنل فلو کی عمومی علامات میں اچانک بخار کا ہوجانا، زیادہ تر خشک کھانسی، سر میں درد ، پٹھوں اور جوڑوں میں درد ، گلے کا خراب ہونا ، ناک کا بہنا شامل ہیں۔ عام علامات میں سر درد، بخار، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، کھانسی اور ناک کا بہنا، گلے کا خراب ہونا شامل ہیں۔ یہ علامات عام نزلہ و زکام میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن سیزنل انفلوئنزا میں ان علامات کی شدت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں عام نزلہ و زکام میں بچوں اور بزرگوں میں اسہال ، متلی و الٹی زیادہ ہوتی ہے ایک مستند معالج، جامع ہسٹری اور معائنے سے ان دونوں بیماریوں کی تشخیص کر سکتاہے۔ انفلوئنزا فلو شدید بیماری سے لے کر موت بھی لاسکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر سالانہ 3 سے 5 ملین افراد اس وائرس سے متاثر اور تقریباً 3 سے 6.5 ملین سالانہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔
یہاں یہ ابہام بھی دور ہوجانا چاہیے کہ زکام اور سیزنل انفلوئنزا دو الگ الگ بیماریاں ہیں اور ان کے جراثیم بھی الگ الگ ہیں البتہ دونوں کی علامات بہت ملتی جلتی ہیں۔ اس کے علاوہ زکام کی علامات کم شدت کی ہوتی ہیں اور یہ جلد ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
میڈیسن کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’اگر آپ زکام کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو اس کا دورانیہ سات دن ہے اور اگر آپ علاج نہیں کرتے تو آپ ایک ہفتے کے اند ر ٹھیک ہو جائیں گے‘۔ عام زکام کے مقابلے میں سیزنل انفلوئنزا کی علامات زیادہ شدید ہوتی ہیں اور اس کی پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں جن میں نمونیا سرفہرست ہے۔
پھیلاؤ:

موسمی انفلوئنزا عموماً متاثرہ شخص کے کھانسنے اور چھینکنے سے دوسر ے شخص کو براہ راست منتقل ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں مریض کے ہاتھوں، رومال، تولیہ ، ٹشو پیپر وغیرہ جن پر ناک اور گلے کی رطوبات لگی ہوں، ان سے بھی یہ مرض دوسرے افراد تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے انفلوئنزا سے متاثرہ شخص کو چاہیے کہ جب بھی کھانسے یا چھینکے تو اپنی ناک اور منہ کو ڈھانپ کر رکھے۔
یہ بات انتہائی توجہ طلب ہے کہ متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے 6 فٹ کے فاصلے تک جراثیم پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے متاثرہ شخص سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور متاثرہ شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے منہ کو ماسک سے بھی ڈھانپ کر رکھے ماسک دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مریض کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں پر نہیں کھانسنا چاہیے اور اگر کھانسی یا چھینک روکنا ناممکن ہو تو قمیص کی آستین کو استعمال کرے۔

About Admin

Check Also

ہلدی بے شمارخوبیوں کا حامل ایک اہم مصالحہ

کراچی: پاکستان میں مقبول ترین مصالحہ ’ہلدی‘ قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: