Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / پاکستان / پاکستان میں 50فیصد خواتین اور بچے غذائی کمی کا شکار

پاکستان میں 50فیصد خواتین اور بچے غذائی کمی کا شکار

فیصل آباد(بیورورپورٹر)پاکستان میں 50فیصد خواتین اور بچے غذائی کمی کا شکار ہوکر صحت مند زندگی کی خوبصورتیوں سے محروم ہیں جبکہ غیرمتوازن اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال معاشرے پر بیماریوں کے دباﺅ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے جبکہ اسی طرح 49فیصد خواتین خون کی کمی جبکہ 43فیصد بچوں کی گروتھ جمود کا شکار ہے۔ یہ باتیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی کے زیراہتمام سکول اساتذہ کیلئے فوڈ نیوٹریشن سے متعلق تربیتی ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کے مقررین نے کہیں۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اقبال ظفر نے حالیہ تحقیقی اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سکول جانیوالے بچوں کی ایک بڑی تعداد صبح ناشتہ کئے بغیر سکول پہنچتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ دوسرے بچوں کے مقابلہ میں اچھی پرفارمنس سے قاصر رہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ شہری علاقوں میں اکثر والدین دیر تک ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں اور صبح دیر سے بیدار ہونے کی وجہ سے بچوں کیلئے بروقت ناشتہ اور انہیں سکول روانہ کرنا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے لہٰذا گھروں میں رات کو جلد سونے اور صبح جلد بیدار ہونے کی عادت کو رواج دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خوراک کو سادہ اور متوازن ہونا چاہئے اور ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھایا جائے تو انسانی جسم اچھی کارکردگی دکھاتا ہے۔ انہوں نے صحت کے حالیہ اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 60فیصد افراد وٹامن ڈی جبکہ 45فیصد وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔ اسی طرح 49فیصد خواتین خون کی کمی جبکہ 43فیصد بچوں کی گروتھ جمود کا شکار ہے لہٰذا بچوں کے ابتدائی سالوں کے دوران اس کمی کو دور کرنے کیلئے ان کی خوراک میں وہ تمام ضروری اجزاءشامل کئے جانے چاہیں جن کی انہیں ضرورت ہے۔ ڈین کلیہ فوڈ نیوٹریشن و ہوم سائنس ڈاکٹر مسعود صادق بٹ نے کہا کہ خوراک کی کمی کی وجہ سے قومی شرح نمو میں 3فیصد کمی واقع ہورہی ہے جو کسی طور پر توانائی بحران کم نہیں لہٰذا ہمیں بچوں اور خواتین کی خوراک میں بہتری کیلئے قومی سطح پر پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طاہر ظہور نے کہا کہ فولاد اور وٹامن کی کمی کی وجہ سے پیش آنیوالی مشکلات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے سے آئیوڈین کمی کی شرح میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے غذائی کمی کوناخواندگی‘ خوراک حوالے سے قوت خریدکے مسائل ‘فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال اور عوامی شعور میں کمی کو قرار دیا۔ ڈاکٹر بینش اسرار نے سکول اساتذہ پر زور دیا کہ وہ سکول کی سطح پر بچوں میں متوازن خوراک کی اہمیت اور افادیت کا شعور اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ سکول جانیوالے بچوں کی خوراک میں پھل‘ سبزیاں‘ دال اور گوشت کے استعمال کوبڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر بینش سرور خاں نے کہاکہ والدین کو اپنے بچوں کی خوراک اور ترجیحات کا ادارک ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ غیرمتوازن اور فاسٹ فوڈ کے استعمال سے غذائی کمی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو اپنے قد اور وزن کے تناظر میں باڈ ی ماس انڈکس (بی ایم آئی)سے ضرور جانکاری ہونی چاہئے کیونکہ 18.5سے کم بی ایم آئی کے حامل افراد انڈرویٹ‘ 18.49تا 24.99بی ایم آئی کے حامل صحت مند ‘25تا 30بی ایم آئی رکھنے والے افراد اوورویٹ جبکہ 30سے زائد بی ایم آئی والے افراد موٹاپے کا شکار قرار دیئے جاتے ہیں ۔ورکشاپ سے ڈاکٹر کامران شریف اور ڈاکٹر عمران پاشا نے بھی خطاب کیا#/s#

About Admin

Check Also

pmshahid

حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: