Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3

اسلام آ باد (نیوز رپورٹر )ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان کا نیوکلئیر سیکورٹی کے حوالے سے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام جدید ترین اور محفوظ ہاتھوں میں ہے ،پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیارات اور آئی اے ای اے کے قواعد کے مطابق ہے، سی پیک منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے،دوست ممالک کی منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے دونوں ممالک طریقہ کار طہ کررہے ہیں،کہ روس اور چین الگ الگ پاکستان کیساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کر رہے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ،بھارت کشمیریوں کی تحریک آ زادی کو دبانے کے لئے غیر انسانی سلوک کر رہا ہے،بھارت سیز فائر لائن کی بھی مسلسل خلاف ورزی کر رہاہے اور جان بو جھ کر سول آ بادی کو نشانہ بنا رہا ہے،عالمی برادری نو ٹس لے، پاکستان جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھر پور اندا ز میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھائے گا، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی تنظیموں اور میڈیا نے پیلیٹ گن کے استعمال کو غیر انسانی فعل قرار دیااور پیلٹ گننز سے متاثرین کی تصاویر شائع کیں،بھارتی میڈیا نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ مسئلہ اچھالا، پاکستان میں داعش کی منظم موجودگی نہیں ہے،بھارت افغانستان میں تخریب کارانہ کردارا دا کر رہا ہے، تعمیر نو کے منصوبوں کی آڑ میں پاکستان میں دہشتگردی پھیلائی ہے،افغانستان کی سرزمین اور وہاں پر مو جود دہشت گرد تنظمیوں کے زریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ جمعرات کوترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ابتدائی بیان میں کہاکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب اور دیگر سرگر میوںکے بعد اپنا دورہ مکمل کیا۔ وزیر اعظم کا دورہ کامیاب رہا اور دورے کے دوران اہم اہداف حاصل کئے گئے ۔ قومی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے نقطہ نظر کو پیش کیا گیا۔پاکستان کی سلامتی و معاشی کامیابیوں کو بہتر انداز سے پیش کیا گیا۔افغانستان میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجا گر کیا گیا۔وزیر اعظم نے عالمی و علاقائی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر واضح کیا۔وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ڈوزئیر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے حوالے کیا۔وزیر اعظم نے سائیڈ لائن ملاقاتوں میں بھی اپنا مو قف بہتر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا۔مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں میں سات کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔درجنوں کشمیری زخمی ہوئے ہیں۔ کالے قانون کے تحت 700کشمیریوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں۔بھارت نے حریت راہنماوں کو زیر حراست رکھا ہوا ہے۔بھارت کشمیریوں کی تحریک آ زادی کو دبانے کے لئے غیر انسانی سلوک کر رہا ہے۔بھارت سیز فائر لائن کی بھی مسلسل خلاف ورزی کر رہاہے اور جان بو جھ کر سول آ بادی کو نشانہ بنا رہا ہے ۔عالمی برادری نو ٹس لے۔2017میں اب تک بھارت نے لائن آ ف کنٹرول پر 873مرتبہ خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں 40معصوم لو گ شہید ہوئے اور 148لو گ زخمی ہوئے۔ پاکستان جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھر پور اندا ز میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھائے گا۔انہوں نے کہاکہ روس اور چین الگ الگ پاکستان کیساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیو کلئیر سیکورٹی کے حوالے سے پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور نیوکلیر پروگرام جدید ترین اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔پاکستان نیو کلئیر سیکورٹی کے حوالے سے دیگر ممالک کے ماہرین جو اس ضمن میں تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔پاکستان کا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیارات اور آئی اے ای اے کے قواعد کے مطابق ہے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان منصوبہ ہے۔یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔دوست ممالک کی منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے دونوں ممالک طریقہ کار طہ کررہے ہیں۔ پاکستان میں داعش کی منظم موجودگی نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس سے داعش کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو تصویر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ میں لہرائی وہ بھارتی میڈیا میں رپورٹ ہوتی رہی ہے اور اس حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا۔ بھارتی میڈیا نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ مسئلہ اچھالا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی تنظیموں اور میڈیا نے پیلیٹ گن کے استعمال کو غیر انسانی فعل قرار دیا۔اور پیلٹ گننز سے متاثرین کی تصاویر شائع کیں۔ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے انکار نہیں کر سکتا۔بھارت پیلٹ گنز کے استعمال نہ کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔بھارت کشمیری نوجوانوں بچوں اور خواتین کو نابینا کرنے کی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔بھارتی قابض افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیاجا رہا ہے۔بھارت کی جانب سے در اندازی کا پروپیگنڈا مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں۔مقبوضہ کشمیر میں چٹھی سنگھ پورہ میں تیس سے زائد سکھوں کو شہید کیا گیا۔بھارت کی جانب سے واقعہ کا الزام عسکریت پسندوں پر لگایا گیا ۔تاہم بعد میں حقیقت سامنے آئی کی بھارتی افواج نے یہ قتل عام کیا۔بھارت اپنے مظالم چھپانے کے لئے ایسا پروپیگنڈا کرتا ہے۔بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی را نے افغانستان میں پاکستانی کالعدم دہشت گردوں سے رابطے مضبوط رکھے ہیں۔وہ ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر رہا ہے۔را کے افغانستان میں کالعدم جماعت الاحرار, تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد گروہوں سے رابطے ہیں۔بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کا پروپیگنڈا کھلا جھوٹ تھا۔بھارت نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں کی آڑ میں پاکستان مین دہشتگردی پھیلائی ہے۔تعمیر نو اور ترقی کے منصوبوں کو عدم استحکام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارت کا کردار تخریبی ہے۔بھارت کے افغانستان میں کردار کو پاکستان نے تسلیم نہیں کیا۔پاکستان کی اعلی سیاسی قیادت نے امریکی پالیسی کے جواب میں اپنا نکتہ نظر واضح کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور تھائی لینڈ آزادانہ تجارت کے باہمی معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ملائشیاکی حکومت نے پاکستان سمیت 10 ممالک کے لئے ای ویزاءکا اجراءکیا ہے۔اس سے ویزے کی تاخیر سمیت دیگر مسائل کا خاتمہ ہو گا۔ہم افغانستان کے ساتھ اپنے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزیر خارجہ نے اپنے افغان ہم منصب اور مشیر قومی سلامتی سے ملاقاتیں کیں۔پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے بات چیت چاہتے ہیں۔پاکستان افغانستان اور چین کا دوسرا سہی فریقی اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس میں معاشی تعاون کے فروغ پر بات کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کی خبریں درست نہیں۔2.8 ملین پاکستانی سعودی عرب میں رہتے ہیں۔سعودی عرب کی حکومت بارہا پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے اور ملازمت میں تبدیلی کے حوالے سے ریلیف پروگرام متعارف کراتی رہتی ہے۔افغانستان میں افغانوں کے لیے افغان عوام کے زیر انتظام مفاہمتی عمل کے لیے بہت سے اقدامات جاری ہیں۔امریکہ کیو سی جی کا حصہ ہے۔قومی سلامتی مشیر کے مطابق امریکہ کیو سی جی کے تحت افغانستان میں مفاہمتی عمل کی نشاط ثانیہ کا خواہش مند ہے۔ہم نے انتہائی خلوص سے اپنی سرزمین پر انسداد دہشتگردی کے لئے تمام تر اقدامات کیے۔دنیا انسداد دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی کاوشوں, کامیابیوں اور قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے۔(و خ )

About Admin

Check Also

JusticeSyedMansoorAliShah

خواتین پرتشدد کے کیسز کی سماعت کیلیے پہلی خصوصی عدالت قائم

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس ہائیکورٹ نے خواتین پر تشدد کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: