Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / اہم ترین / پانامہ ملکی تاریخ کا پہلا کیس : دفاع کرنےوالے کے تمام حقوق سلب کرلئے گئے :نواز شریف

پانامہ ملکی تاریخ کا پہلا کیس : دفاع کرنےوالے کے تمام حقوق سلب کرلئے گئے :نواز شریف

اسلام آباد(وقائع نگار) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے پر پاکستان دولخت ہوگیا اور اگر فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی۔پنجاب ہاو¿س اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماو¿ں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پانامہ ملکی تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں دفاع کرنے والے کے تمام حقوق سلب کرلئے گئے اور عدل و قانون کا پورا وزن درخواست گزار کے پلڑے میں ڈال دیا گیا، ان مقدمات نے سیاسی انتقام کی کوکھ سے جنم لیا، چونکہ عدلیہ نے مجھے بہرصورت نااہل کرنا تھا اس لیے اقامہ کی آڑ لے گئی، کیا ایسا ہوتا ہے انصاف، کیا قانون کی پاسداری اور فیئر ٹرائل یہی ہے، جانتا ہوں اصل جرم کیا ہے لیکن عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا، عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے پر پاکستان دولخت ہوگیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ انصاف کے عمل کو انتقام کا عمل بنادیا جائے تو پہلی سزا کسی فرد کو نہیں بلکہ عدالت کو ملتی ہے، فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی، تمیزالدین سے نواز شریف تک تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری ہے جن پر ندامت ہوتی ہے، 70 سالہ پرانے کینسر کا علاج تجویز کرنے کا وقت آگیا ورنہ پاکستان خدانخواستہ کسی سانحے کا شکار نہ ہوجائے، میں جھوٹ پر مبنی بے بنیاد مقدمے لڑ رہا ہوں اور سزا پارہا ہوں، میں اور میرے بچے ان ہیروں سے بنی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے جنہیں واٹس ایپ کالوں سے چنا گیا جب کہ بعض ہیروں کے خلاف تو خود انکوائریاں چل رہی تھیں اور اب یہ ہیرے مقدس مخلوق بن گئے ہیں جن کے خلاف سپریم کورٹ بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ عدالت نے پہلے پٹیشن کو فضول اور ناکارہ قرار دیا، پھر مقدمے کی سماعت شروع کی، ثبوت نہ ملا تو پراسرار طریقے سے جے آئی ٹی بنائی اور پھر اس کی نگرانی بھی سنبھال لی، پھر کبھی 5 اور کبھی 3 ججز کے ساتھ فیصلے بھی دے دیے، نیب کو حکم دیا کہ سارے ضابطے توڑ کر براہ راست ریفرنس دائر کرو اور پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا اور احتساب کورٹ کی نگراں بھی بن گئی اور اب یہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے بھی قانون و انصاف کے عمل سے گزرا اب بھی گزر رہا ہوں، پہلے اور اب میں فرق یہ ہے کہ پہلے آمریت تھی لیکن اب جمہوری دور ہے، آمر کے دور میں 2 اپیلوں کا حق حاصل تھا مگر آج اس سے بھی محروم کردیا گیا، ہم قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے جائز اور ناجائز سب تسلیم کیا لیکن ملک میں ہر صورت قانون کی پاسداری اور انصاف ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی نہ ہونے سے اداروں میں تصادم کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، حالات کی سنگینی کا سامنا پہلے بھی کیا اور اب بھی کررہا ہوں۔نواز شریف نے مزید کہا کہ میں میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں، صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں، احتساب عدالت میں پیشی کے وقت ناخوشگوار واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، آمریت کے دور کے پٹے ہوئے مقدمات کو میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، نشانہ میری ذات اور میرا خاندان ہے لیکن سزا پوری قوم کو اور ان کی نسلوں کو دی جارہی ہے، میرا ضمیر اور دامن صاف ہے، عوام میرے ساتھ کھڑے ہیں، امید ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف زندہ ضرور ہے۔

 

About Admin

Check Also

KHURSHID SHAH SUKKHUR

حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے، خورشید شاہ

سکھر(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: