Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / خواتین کارنر / عورت کی مثال

عورت کی مثال

ہا عورت کی مثال جوتے کی طرح ہے مرد کسی بھی وقت اس کو تبدیل کرسکتا ہے جب بھی اس کو مناسب سائز کی ضرورت ہو! لوگ اس کی بات سن کر ایک سمجھدار و دانش مند شخص کی طرف دیکھنے لگے جو ان کے درمیان بیٹھا تھا اور پوچھنے لگے کہ اس کی بات کے بارے میں کیا رائے ہے؟ دانش مند شخص نے فرمایا! اس شخص نے بالکل صحیح کہا عورت اس شخص کی نظر میں جوتی ہے جو اپنے آپ کو پاوں کی طرح سمجھے۔اور وہ تاج کی طرح ہے اس شخص کی نظر میں جو اپنے آپ کو شہزادہ سمجھے! پس بولنے والے پر ملامت مت کرو بلکہ یہ جانو کہ وہ خود کو کیسے دیکھتا ہے.
عورت اس کائنات میں خدا کی حسین ترین تخلیق ہے اور اس دنیا کا حسن برقرار ہی عورت کی وجہ سے ہے. کائنات کا پہلا قتل بھی عورت کی وجہ سے ہوا تھا.لیکن اس کا قطعا یہ مطلب نہیں لیاجا سکتا کہ عورت فساد کی وجہ ہے. یہ خدا کی حکمت تھی جو اس نے ہمیں دکھائی اور ہمیں حکم دے دیا کہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کے مطابق زندگی گزارنی ہے. ہمارے ہاں یہ سوچ عام طور پر پائی جاتی ہے کہ عورت ہی ہر مسئلے کی بنیاد ہے. بانو آپا فرماتی ہیں ..ہمارے ہاں اس لڑکی کو تو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو آدھے کپڑے پہنتی ہے لیکن اس لڑکے کو کچھ نہیں کہا جاتا جو اس کو دیکھتا ہے.. اسکا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ عورت کو کھلی آزادی دے دینی چاہئیے مگر اس مرد کو بھی تو مخاطب کیا جاے جو ایک بیوی کے ہوتے ہوے دوسری عورتوں کی طرف گندی اور بھوکی نگاہوں سے دیکھتا ہے جو اپنی بیوی کے ہوتے ہوے کوٹھوں کو آباد کرتا ہے. اس مرد کی سوچ بھی تو ایک سوالیہ نشان ہے جو ہر بات پر کہتا ہے کہ ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے. وہ صرف ایک ہی جذبے کی بنیاد پر کیسے عورت کی حرمت کو پاش پاش کر دیتا ہے.
اللہ پاک خود فرماتے ہیں کہ جب میں بیٹا دیتا ہوں تو میں کہتا ہوں جا میں نے تجھے دنیا میں تیرے باپ کی مدد کرنے کے لیے بھیجا ہے اور جب میں بیٹی دیتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ جا میں دنیا میں تیرے باپ کی مدد کروں گا (سبحان اللہ). ہمارا یقین اس حد تک نا پختہ ہو چکا ہے کہ ہم بیٹی کی پیدائش پر مٹھائی تک نہیں بانٹتے اور بیٹے کی پیدائش پر ہمارا بس نہیں چلتا کہ ساری دنیا کو چیخ چیخ کر بتائیں کہ اللہ پاک نے ہمیں نرینہ اولاد عطا کی ہے. میں نے اکثر مساجد میں علما حضرا ت کو یہ دعا کرتے سنا ہے کہ یا اللہ ان کو اولاد نرینہ عطا فرما اور میرے ذھن میں ایک ہی سوال اٹھتا تھا کہ کیا ہم اللہ پاک کو پابند کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یا اللہ اولاد ہو تو نرینہ ہونی چاہئیے ؟(استغفراللہ). بات یہیں پے حتم نہیں ہوتی بلکہ ہم اللہ کے ساتھ شرط لگا لیتے ہیں کہ اس بار نہیں تو اگلی بار تو بیٹا ہی ہو گا (توبہ) اس دوران ہم اللہ کو خالق ماننا تو بھول ہی جاتے ہیں بلکہ اسکی اس محلوق کی قدر بھی نہیں کرتے جو اس نے ہمارے عقد میں دی ہوئی ہے اور اسکو بھی برا بھلا کہنے سے گریز نہیں کرتے. المیہ یہ ہے کہ ہم کس طرح لڑکا/لڑکی کے لیے عورت کو قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں. کیا یہ شرک کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا وہ اپنی مرضی سے لڑکا /لڑکی پیدا کرتی ہے؟ وہ تو بس ذر یعہ ہے اللہ پاک کی رضاکو دکھانے کا .
ہم اپنی بیٹیوں کو بڑے ناز و نعم سے پالتے ہیں اور ہر وقت یہ دعا زبان پر ہوتی ہے کہ اللہ پاک انہیں کسی بھی تکلیف سے محفوظ رکھے تو کیا اس بچی کے والدین نے دعائیں نہیں مانگی ہوتیں جنہوں نے اپنی بچی کو آپکے گھر بیاہ کر بھیجا ہوتا ہے. ہم کس طرح سوچ لیتے ہیں کہ ہم اپنی بہو کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں اور ہماری بیٹی کے ساتھ اچھا رویہ رکھا جاے گا. ہماری غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی بہن کیطرف اٹھنے والی ہر نگاہ کو حرام اور دوسرے کی بہن کی طرف اٹھنے والی اپنی ہر نگاہ کو اسکی بے خیائی تصور کرتے ہیں.ہم اپنی ماں کے ادب کو احترام اور اپنی بیوی کی ماں کے ادب کو بے عزتی سمجھتے ہیں۔ میں نے اپنی تحریر میں ..ہم..کا لفظ استعمال اسلئے کیا ہے کہ ہم صرف مرد نہیں بلکہ وہ عورتیں بھی ہیں جو ماں، بہن اور بیوی کی شکل میں ہمارے ساتھ منسلک ہوتی ہیں. جن مسائل کا ذکر میں نے اپنی تحریر میں کیا ہے ا س میں عورتوں کے کردار کو حارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا. کیونکے ایک ہی عورت (ماں ہو یا بہن)کے جذبات رشتوں کی آڑ میں مختلف روپ دھار لیتے ہیں اور یہ روپ ہی ان رشتوں کو قتل کر دیتے ہیں جن کی انہوں نے آڑ لی ہوتی ہے. اب یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب یہ جذبات رشتوں کی آڑ لے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت مرد کی حکمت کہاں ہوتی ہے؟ اور جب یہی روپ ان رشتوں کو قتل کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت مرد کا تحمل کہاں ہوتا ہے؟ انکے جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں!!
یہ پروردگار کا نظام ہے کہ اسنے مرد اور عورت کو با لکل علیحدہ فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن جوڑا مرد اور عورت کا ہی بنانے کا حکم دیا ہے. اللہ پاک نے مرد کو حکمت سے کام لینے اور عورت کی کوتاہیوں کو معاف کرنے کی ہدایت کی ہے جبکے دوسری طرف عورت کو مرد کے حکم کے تابع کیا ہے تاکہ جذبات کے دریا کو حکمت کے کوزے میں بند کیا جا سکے. خاوند اور بیوی کا رشتہ اللہ پاک کی ذات کو بہت پسند ہے اور اسکا ٹوٹنا مکرو قرار دیا گیا ہے. ہمارے ہاں کم نصیبی یہ ہے کہ رشتہ جوڑنے سے سے پہلے جو میعار مقرر کئے جاتے ہیں انکا صرف کچھ حصّہ ہی سچ پر مبنی ہوتا ہے اور جھوٹ زیادہ دیر تک برقرار انہیں رہتا یوں رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں. اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ ہمارے بڑے جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اسکے پیچھے اچھی نیت کار فرماں ہوتی ہے تو پھر ہم یہ کیوں نہیں مانتے کہ جو عورت ہماری بیوی بن کر اس گھر میں آئی ہے اسکی عادتیں اور اسکا مزاج جوکے پچھلے پچیس سال سے بنا ہوا ہے اس کو ہم پچیس دنوں میں تبدیل نہیں کر سکتے. ایک مرد جس کو شادی کے قابل سمجھ کر اسکے عقد میں ایک عورت دی جاتی ہے اسکی قابلیت کو سوالیہ نشان کیوں نہیں بنایا جاتا؟ یاد رکھئے گا عورت ایک بچے کی مانند ہوتی ہے اسکا ہر جذبہ آپکے عمل کا مختاج ہوتا ہے ،اسکا ہر عمل آپکے رد عمل سے جنم لیتا ہے جتنا آپ کا رد عمل شدید ہو گا اتنا ہی اس کے عمل میں بے اعتنائی بڑھتی جاے گی اور وہ دہری شحصیت کو احتیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی. جتنا آپ کا رد عمل نرم اور حکمت سے بھرپور ہو گا اسکی شحصیت میں اتنا ہی نکھار پیدا ہو گا. جتنا آپ اسکی عادات کو تحمل سے برداشت کریں گے اتنا ہی وہ اپنے عمل کو آپکے تا بع کر لے گی.آپ کبھی بھی غصے سے یا سختی سے عورت کو اپنے تا بع نہیں کر سکتے اور اگر کر بھی لیتے ہیں تو یہ مستقل نہیں ہو گا زندگی میں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا بھلے وہ اولاد کی صورت میں ہو ۔ہمارے ہاں مقابلہ ہوتا ہے، مرد چاہتا ہے بیوی عمل اور سوچ دونوں میں مرد کے تا بع ہو جبکے عورت چاہتی ہے کہ مرد صرف اسکی مرضی کو ملحوظ خاطر رکھے. یہ ایک ایسی لڑائی ہے جو کبھی حتم نہیں ہو سکتی جب تک دونوں فریق سمجھداری اور تحمل سے ایک دوسرے کی اچھی اور بری باتوں کو مد نظر رکھتے ہوے کسی نتیجے پر نہ پہنچیں. ا س میں بھی مرد پر ذمہ داری زیادہ عائد ہو تی ہے چونکے اس کو عورت پر برتری صرف حکمت کی بنیاد پر دی گئی ہے اور اگر یہ حکمت ہی کام میں نہیں آ رہی تو برتری نقصاندہ ثابت ہونے لگتی ہے. یہاں یہ بات کہنا ضروری سمجھوں گا کہ کوئی بھی رشتہ /انسان آپ کے خراب ازدواجی رشتے کو درست کرنے
میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپ کو کوئی ایسا آدمی میسر نہیں آتا جس کی دانائی اور سمجھ کی بنیاد پر لوگ اس سے مشورہ کریں اور اس کی شحصیت اور زندگی سب لوگوں پر عیاں ہو اوربدقسمتی سے ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں نا پید ہوتے جا رہے ہیں. اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیںاس رشتے کی حرمت کو سمجھنے کی توفیق دے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی طاقت دے کیونکہ یہی رشتہ ہمارے بچوں کی اچھی تربیت کی بنیاد بنتا ہے. آمین

About Admin

Check Also

Tooth paste face

ٹوتھ پیسٹ سے کیل مہاسوں کا خاتمہ

ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو سفید اور چمکدار بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتا ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: